پاکستان ایک ارب ڈالر کے "پانڈہ بانڈ" جاری کرےگا
پاکستان 2020ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران چینی کرنسی یوآن کی
مالیت کے ایک ارب ڈالر کے بانڈ جاری کرے گا جنہیں "پانڈابانڈ" کا نام
دیاگیاہے۔ چین کی جانب سے ان قرضہ جاتی بانڈ کے اجرا کی اجازت ملنا پاکستان کے
معاشی حالات کی بہتری کی طرف نشاندہی
کرتاہے۔ یہ پاکستان کے لیے پہلا موقع ہوگا کہ پاکستان چین کی سب سے بڑی کپیٹل
مارکیٹ میں اپنے لیے امکانات کا تجزیہ کرے گا۔ واضح رہے کہ چین کی بانڈ مارکیٹ کا
شمار دنیاکی تیسری بڑی مارکیٹ میں ہوتا ہے۔ پاکستان حبیب بینک کے صدراور چیف
ایگزیکٹو آفیسر محمد اونگزیب کا کہنا ہے کہ چین کی مالیاتی اینجسیوں سے پاکستان کو
کریڈٹ ریڈنگ ملتے ہی وزارت خزانہ کی جانب سے "پانڈابانڈ" کا اجراء کردیا
جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان اینجسیوں کو کریڈٹ ریٹنگ کے تعین
ملنے میں تقریبا کم سے کم دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ ان چین کے نئے بانڈ کی اجراء میں
حبیب بینک کو کہ پاکستان کا نجی بینک ہے، جو پاکستان کی معاونت کررہاہے۔ تفصیل سے
بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بانڈ 2020 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان میں لانے کی
کوشش کرے گے۔ ہمارے انزازے کے مطابق "بانڈا بانڈ" کی پہلی کھیپ 350 ملین
ڈالر کے مساوی چینی کرنسی ہوگی۔ چار بینکوں کا کنسورشیم ان بانڈ کی ڈیل طے کرانے
میں مشیر اور "لیڈرمینجر" کا کردار ادا کررہاہے۔ جن میں حبیب بینک کے
علاوہ سٹی بینک، سی آئی ٹی آئی سی، سی ڈی پی پاکستان کے پرائیویٹ بنک شامل ہیں۔ ان بانڈز کے متلعق منافع کے بارے میں
اور ان سے متعلق کتابوں کی تیاری کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں محمد
اونگزیب نے کہاکہ یہ باتیں کہنا ان بانڈ کے بارے ابھی قبل از وقت ہیں، بانڈز کے اجراء
سے کچھ دن پہلے ان بانڈ کے نارے میں تمام تفصیلات ہمارے سامنے آجائی گی۔
پہلی کھیپ کے اجراء کے بعد کچھ دن پہلے یہ سرمایہ کارچنداداروں
کی جانب سے ان پانڈہ بانڈ کی خریداری کے رجحان کا جائزہ لیاجائے گا، اس کے بعد
انہیں انفرادی سطح پر فروخت کے لیے پیش کیاجائے گا۔ پاکستان کے تمام نجی بیینکوں
اور چند انشورنس کمپنیوں کی جانب سے بہت بڑے پیمانے پر ان پانڈہ بانڈز کی خریداری
کی توقع کی جارہی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں