Breaking News

فخر الدین پاشا کی زندگی کس طرح ارطغرل سے ملتا ہے، اور مدینہ کی حفاظت کس طرح کی

 

شاید آپ پہلی بار یہ نام سن رہے ہو لیکن یہ خلافت عثمانیہکا وہ واحد بہادر جرنیل تھا جو صرف اکیلا عرب میں موجود باغیوں، برطانیہ اور اس کے اتحادی افواج سے 73 دن تک لڑتا رہا۔ اور بعد میں برطانیہ نے ان کی بہادری سے متاثر ہو کر ان کو "ٹائیگر آف دی ڈیزرٹ" یا "صحرائی چیتا"  کا لقب دیا گیا۔ مسلم دنیا ان کو مدینہ کے محافظ کے نام سے بھی یاد رکھتی ہے۔ وہ اپنے اس وقت کے اتحادیوں کے خلاف دلیری سے لڑتے رہے ان کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ ان کا یوں اکیلے تنہا لڑنا وہ ایک سے ساتھ نہیں بلکہ تین تین اتحادیوں سے لڑتے رہے۔ وہ ایمان کے ساتھ اپنے رب کو حاضر ناظر رکھتے ہوئے لڑے۔

فخر الدین پاشا کی زندگی کس طرح ارطغرل سے ملتا ہے، اور مدینہ کی حفاظت کس طرح کی

پاشا خلافت عثمانیہ کے دور میں وہ واحد سپہ سا لار تھے جنہوں نے اپنے دور میں ایک عظیم ترین تاریخ رقم کی۔ جو چیز ان کے دل جزبہ پیدا کرتی تھی وہ واحد چیز اللہ تعالیٰ کا ان کے دل میں خوف اور محمدﷺ سے ان کا ایک عظیم تعلق اور عشق و محبت تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کی حکومت ہر جگہ ہی سے سلطنت عثمانیہ سے شکست ہی کھارہا تھا تو اس وقت برطانیہ کی حکومت نے ایک جال جلی۔ انہوں نے شریف مکہ حسین بن علی جو کہ اس وقت حجاز کرام کی پاک زمین کا گورنر تھا انہوں نے اس کو لالچ دی کہ وہ آپ کو جنگ کے اختتام پر مسلمانوں کا خلیفہ بنایاجائے گا حجاز کا گورنر اس لالچ پر رضامند ہوگئے۔ حجاز کے گورنر شریف مکہ نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کردی اور مکہ اور جدہ کی سر زمین پر قبضہ کرلیا۔

شریف مکہ مدینہ پر قبضہ کےلیے اپنے فوج کے ساتھ انگریز اور فرانسیسی مل کر بغاوت کرنے کی کوشش کی اور ان میں کامیاب بھی ہوگئے۔ برطانیہ کا جاسوس جس کا نام لارنس آف عریبیہ تھا انہوں نے 1916ء کو مدینے کا محاصرہ کرلیا تھا اور 1919ء تک یہ محاصرہ ان کے ہاتھ میں رہا۔ اس وقت شہر مدینہ کا دفاع کی زمہ داری عمر الدین پاشا جو کہ عمر سلطنت عثمانیہ کا اہم رکن تھا جس کی وجہ سے وہ انتہائی ہی طاقت ور کے ساتھ ساتھ صاحب ایمان اور عاشق رسول ﷺ بھی تھا۔ وہ اپنے نتظام کی بنا پر مدینہ منورہ کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا چکا تھا اور مدینہ کے باسی ان کو بے انتہا پسند کرتے تھے۔

 اس بغاوت کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ کو شدید دھچکا لگا، جس کی وجہ سے برطانیہ اور ان کے تمام اتحادی بڑی تیزی کے ساتھ عثمانیہ کے علاقوں کو اپنے قبضے میں لے رہے تھے۔ بلغاریہ جو کہ عثمانیہ کا ایک اہم اتحادی تھا کے ہتھیار ڈالنے پر جرمنی بھی کمزور ہوگیاتھا۔ تو جرمنی نے بھی ان اتحادیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ سلطنت کے تمام اتحادیوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد سلطنت خود بھی کمزور تر ہوتا گیا اور بھی برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف ہتھیار ڈالنے پر مجبورہوگیا۔ شریف مکہ اور ان کے دو بیٹے علی فیصل اور عبداللہ اس بھروسے تھے کہ اب مشکل حالات میں فخرالدین پاشا بھی ان کے آگے ہتھیار ڈال دے گا لکین فخرالدین پاشا اپنے فوج کے ان اتحادیوں کے خلاف ہتھیار نہیں ڈالے اور وہ ان کے خلاف لڑتے رہے۔

جوکہ انگریز اس ٹرین کو جو مدینہ کو سامان پہنچاتی تھی ناکارہ کرچکے تھے اور جس کی وجہ سے فخرالدین کو باہر سے مدینہ کی طرف کوئی امداد نہیں پہنچ رہی تھی۔ اس بغاوت کے دوران مدینہ منورہ پر 131 بار اتحادیوں کی طرف سے حملہ کیا گیا اور 302 مرتبہ برسائے گئے۔ اس دوران فخرالدین کی فوج کے پاس کھانے پینے کی تمام اشیاء ختم ہو چکی تھی۔ اور ان کی فوج نے کھانے پینے کی اشیاء نہ ہونے باعث ٹڈیوں کو کھاتے رہے ۔ لیکن ان انگریزوں، فرانسیسی اور بغاوت کرنے والے عرب کے لوگوں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے کیونکہ ان کو حضورﷺ نے خواب میں کہا تھاکہ کفار کے خلاف ہتھیارنہیں ڈالنے۔

پھر جمعہ کے بعد انہوں نے مسلمانوں سے خطاب کیا اور کہا کہ " اے بہادر افسروں! اے چھوٹے محمدیوں! تیزی سے آگے بڑھو اور میرے ساتھ مل کر اللہ اور اس کے محمدﷺ کے سامنے وعدہ کرو کہ ہم اپنی جانیں قربان کرکے اپنے ایمان و دین کی حفاظت کرےگے۔" آخر کار 30 اکتوبر 1918ء کو سلطنت عثمانیہ ان اتحادیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور پاشاکو پیغام دیا گیا کہ تم بھی ہتھیار ڈال دو لیکن وہ آپﷺ کو خواب دیکھ چکے تھے کہ کبھی ہتھیار نہیں ڈالنا تو انہوں بالکل ایسا ہی کیا۔ ان کو حکم نہ مانے پر عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔ یہ سچا عاشق رسولﷺ 72 دن تک ان تمام اتحادیوں کے خلاف اکیلے ہی ڈٹے رہے اور ہمت نہیں ہارے۔

اس کے بعد 2 فروری 1919ء کو شریف مکہ کے بیٹے عبداللہ اور علی مدینہ میں داخل ہوئے اور وہاں پر لوٹ مار کرتے رہے۔ فخری پاشا نے اس وقت 4851 گھروں تالے لگوا دیئے تھے انہوں نے ان تمام تالوں کو توڑ کر لوٹ گھروں میں سامان لوٹ لیا تھا۔

22 نومبر 1948 کو دل کا دورہ پڑنے پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ان کی خواہش کے مطابق ان کو استنبول میں دفن کیاگیا۔

 

 

کوئی تبصرے نہیں