جی-7 ممالک کا کیوبک میں اجلاس، امریکا سے تجارتی جنگ شروع کرنے کا اعلان
کینیڈا کی نئی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ حکومت سنبھالنے کے بعد وہ پڑوسی ممالک سے تعلقات اچھے تلعقات رکھنے کی پھرپور کوسش کرے گے، اسی وعدے کی تکمیل کرنے کے لیے پہلے ہی سال کینیڈا کی نئی حکومت ان کوششوں میں جت گئی۔ گزشتہ حکومت کے آخری دور میں کینیڈا کی حکومت کے تلعقات پڑوسی ممالک سے تلعقات کچھ ناخوشگوار تھے، جو کہ کینیڈا کے سابقہ وزیراعظم اسٹیفن ہارپر نے اپنے دور حکومت میں امریکا کی ہر بات ضرورت سے مانی اور بنا بغیر سوچے جنگی علاقوں عراق اور افغانستان وغیرہ ممالک میں اپنی فوجوں کے ساتھ مالی امداد کرنے میں بھی ایک ایک قدم آگے رہا۔ لیکن وہ امریکا کو پائپ لائن کے سلسلے میں اپنے حق میں نہ کرواسکا۔
کینیڈا کے انتخابی مہم کے دوران کینیڈا اور امریکا کے درمیان پائپ لائن سے متعلق ایک معاہدے میں تلخی ہوگئی تھی لیکن اسٹیفن کی کئی بار کوششوں کے باوجود معاہدہ طے نہ پایا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بھی تلخیان دیکھنے میں آئی۔ تاہم موجودہ حکومت نے عوام سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمام پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر کرنی کی کوشش کرےگے۔ اس وقت لبرل پارٹی نے کئی مہموں کے دوران بات کی تھی کہ وہ حکومت ملتے ہی امریکن صدر باراک اوباما سے تعلقات بہتر کرے گے۔ تو اسٹیفن نے اقتدار میں آتے ہی باراک اوباما کو کینیڈا کی وعودت دی تھی جو امریکہ کے صدرنے قبول کرلی تھی۔
اوٹاوا میں ہونی والی یہ ملاقات انتہائی خوشگوار رہی تھی اس ملاقات کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں امید جاگ اٹھی تھی۔ لیکن اس ہی وقت امریکا کے انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے نئے صدر بنے گئے تھے اس کے بعد ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اب تک بہتر نہ ہوسکے۔ پہلے سو ایام میں ہی صدر ٹرمپ کی نئے اور سخت پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کو پریشان کردیاتھا، صدر امریکہ نے کینیڈا کی بھی نہیں سنی۔ لیکن اب ان دونوں ممالک کے درمیان کچھ تعلقات بہتری کی جانب جاتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ دونوں پہلے صدر ٹرمپ نے کینیڈا پر تجارتی پابندیاں عائد کی تھی۔ انہوں نے کینیڈا پر اسٹیل کی درآمد پر 25 فیصد اور ایلمونیم کی درآمد پر ڈیوٹی لگانے کا منصوبہ بنایاہے۔ جو کہ امریکہ سب سے زیادہ اسٹیل کینیڈا سے خریدتا ہے جس کی وجہ سے اس کا سب سے زیادہ نقصان کینیڈا ہی ہوگا اور ساتھ میں اس پابندی سے نقصان آٹوانڈسڑی کوبھی ہوگا۔
حال ہی میں جی-7 اجلاس کینیڈا کے شہر کیوبک میں ہوا۔ جی-7 دنیاکی ساتھ بڑی معیشوں فرانس ،امریکا، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، چاپان اور یو کے کا گروپ ہے۔ اس سال جی-7 اجلاس کی صدارت کیوبک میں ہورہاہے۔ کینیڈا اس اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلوں پر ساتھ مل کر کرنے، دنیا کو پرامن اور محفوظ بنانے پر زور دینا اور معاشی حالات میں بہتری وغیرہ پر زور دینا۔ اس اجلاس میں روس کی رکنیت بحال کرنے پر غور کیا جائے گا۔ فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے اجلاس سے قبل کہاتھاکہ امریکہ کی پالسیوں کی وجہ سے ان کو جی-7 اجلاس سے نکالا بھی جاسکتا ہے لیکن امریکا کو تنہا ہونے بھی فکر نہیں ہے۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ جی-6 گروپ کی مارکیٹ امریکا سے بہت زیادہ بڑی ہے اس لیے یہ بات امریکا کو اچھے طریقے سے یاد رکھنی چاہئے۔ امریکن صدر ٹرمپ کو اس بیان پر بھی شدید تنقید کا نشانا بنایا جارہا ہے کہ امریکہ روس کو واپس جی-7 گروپ میں واپس لانے کی حمایت کررہاہے۔
جی-7 اجلاس بھی امریکہ اور کینیڈا کے درمیان کشیدگی کم نہ کرسکا، امریکی صدر ٹرمپ نے مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی کینیڈا کے وزیراعظم سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ اجلاس کے بعد کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو میڈیا سے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم امریکہ پر کی 13 ارب ڈالر کی برآمدات پر 25 فیصد سے زائد یا اس سے بھی زیادہ محصولات عائد کرے گا۔
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں